
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ایپسٹن فائلوں میں نئی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں، جن میں ملزمہ جیلین میکسویل کو بروکلین، نیویارک کی ایک جیل میں دکھایا گیا ہے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق یہ جیل امریکہ کی "انتہائی غیر پرامن" سزائیں گزارنے والی جیلوں میں سے ایک ہے۔
یہ ویڈیوز جولائی 2020 میں سیکیورٹی کیمرے سے ریکارڈ کی گئی تھیں، اس سے قبل کہ میکسویل کو ٹیکساس کی ایک 'کم سیکیورٹی' والی جیل منتقل کیا جاتا۔ ان کی منتقلی سے پہلے، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کے ساتھ دو روزہ دورانیے پر محیط نو گھنٹے طویل ملاقات ہوئی تھی۔
جیلین میکسویل، جنہیں 2021 میں بچوں کے جنسی استحصال کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا تھا، اس وقت بیس سالہ قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹن کی اس کی جنسی استحصال کی نیٹ ورک چلانے میں مدد کی۔ میکسویل بارہا ایپسٹن کے ساتھ اس کے پرائیویٹ جزیرے 'لٹل سینٹ جیمز' اور اس کے پرائیویٹ جہاز پر دنیا بھر کے سفر کرتے دیکھی گئیں۔ ان کی تصاویر بِل کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد سیاستدانوں اور مشاہیر کے ساتھ بھی موجود ہیں۔
اپنی قید کے دوران سے، میکسویل کے وکلاء مسلسل ان کی رہائی یا سزا میں کمی کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں۔
